جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
اس شعر میں علامہ اقبال نے عشق حقیقی کا ذکر کیا ہے اقبال کہتے ہیں کہ عشق کا جذبہ انسان کو اپنی ذات کی پہچان دیتا ہے شعور عطا کرتا ہے اور اس کی صلاحیت بتاتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اسے اللہ نے تمام مخلوقات میں بلند درجہ دیا ہے اور جب کسی میں یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے تو اسے غلامی سے نجات کے لئے قوت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی خودی اس کی غلامی سوچ کو بدل کر بادشاہت کی طرف لاتی ہے اور اس میں بادشاہت کرنے کے جوہر پیدا ہو جاتے ہیں