قاری کرام علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا ایک شعر میری نظروں سے گزرا جس میں وہ ہمالہ سے مخاطب ہوتے ہوئے یوں فرماتے ہیں اے ہمالہ ذرا مجھے اس وقت کا احوال بتا جب ہزار ہا سال قبل حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے یہاں آکر تیرے دامن میں پناہ لی تھی ظاہر ہے کہ تو ان لمحات کا رازدان ہے ان ایام کی زندگی کس قدر سیدھی سادی ہوگی جس میں نوع انسانی کا تکلف نہ تھا اے ہمالہ ذرہ،ان دنوں کے بارے میں ہمیں واقعات و حقائق سے آشنا کر جس میں تو ہر طرح کے الفاظ سے آشنا تھا آخری شعر میں علامہ اقبال ہمالہ کی خاموشی سے مایوس ہوکر خود اپنی تخیلی اور تصوراتی کیفیت کا سہارا لیتے ہوئے اس سے ہی کہنے لگے کہ ان ایام کا نقشہ تمہیں مجھ سے بیان کروں کہ یہ پہاڑ آخر ایک خاموش پتھر ہی نکلا جب کہ تم میں یہ صلاحیت موجود ہے ہے کہ گزرے ہوئے ماضی کو پلٹا کر اس کی پوری کی داستان لے آؤ۔
اسرار خودی
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
اس شعر میں علامہ اقبال نے عشق حقیقی کا ذکر کیا ہے اقبال کہتے ہیں کہ عشق کا جذبہ انسان کو اپنی ذات کی پہچان دیتا ہے شعور عطا کرتا ہے اور اس کی صلاحیت بتاتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے اسے اللہ نے تمام مخلوقات میں بلند درجہ دیا ہے اور جب کسی میں یہ جذبہ پیدا ہو جاتا ہے تو اسے غلامی سے نجات کے لئے قوت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی خودی اس کی غلامی سوچ کو بدل کر بادشاہت کی طرف لاتی ہے اور اس میں بادشاہت کرنے کے جوہر پیدا ہو جاتے ہیں