ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح شام تو🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

قاری کرام علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کا ایک شعر میری نظروں سے گزرا جس میں وہ ہمالہ سے مخاطب ہوتے ہوئے یوں فرماتے ہیں اے ہمالہ ذرا مجھے اس وقت کا احوال بتا جب ہزار ہا سال قبل حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام نے یہاں آکر تیرے دامن میں پناہ لی تھی ظاہر ہے کہ تو ان لمحات کا رازدان ہے ان ایام کی زندگی کس قدر سیدھی سادی ہوگی جس میں نوع انسانی کا تکلف نہ تھا اے ہمالہ ذرہ،ان دنوں کے بارے میں ہمیں واقعات و حقائق سے آشنا کر جس میں تو ہر طرح کے الفاظ سے آشنا تھا آخری شعر میں علامہ اقبال ہمالہ کی خاموشی سے مایوس ہوکر خود اپنی تخیلی اور تصوراتی کیفیت کا سہارا لیتے ہوئے اس سے ہی کہنے لگے کہ ان ایام کا نقشہ تمہیں مجھ سے بیان کروں کہ یہ پہاڑ آخر ایک خاموش پتھر ہی نکلا جب کہ تم میں یہ صلاحیت موجود ہے ہے کہ گزرے ہوئے ماضی کو پلٹا کر اس کی پوری کی داستان لے آؤ۔

One thought on “ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح شام تو🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

Leave a reply to Maazdanish Cancel reply

Design a site like this with WordPress.com
Get started